اِدھر اُدھر جو قیامتیں گزر رہی ہیں۔ غالبؔ کی یاد آتی ہے: نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں گھوڑے تو سرپٹ بھاگ رہے ہیں۔ مگر گھڑ سوار نہ لگام ہاتھ می…
Find Us On