اس میں شبہ نہیں کہ ہر ملک کے لئے قومی سلامتی نہایت اہمیت رکھتی ہے جس کا مقصد عوام کو دشمن سے تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ دنیا پر اپنی عسکری برتری برقرار رکھنا بھی ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس ایک ایسے دشمن کے طور پر ابھرا ہے جس کے باعث لاکھوں انسان جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ امریکا کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں سرفہرست ہے اور چین سے تو اس عالمگیر وبا کا آغاز ہوا۔ مثالی حالات میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ دونوں ملک اس مہلک وبا کا مل کر مقابلہ کرتے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انہوں نے اسلحہ سازی کی دوڑ میں بازی لے جانے کی اپنی جستجواب بھی جاری رکھی ہوئی ہے جس کا انکشاف امن کے لئے کام کرنے والے سویڈن کے خودمحتار تحقیقاتی ادارے SIPRI کے اعداد و شمار سے ہوا ہے جن کے مطابق، 2020 میں عالمی سطح پر فوجی اخراجات کی مد میں مجموعی طور پر قریباً دو کھرب ڈالر خرچ کئے گئے
باسٹھ فی صد مالی وسائل پانچ ملکوں امریکا، چین، بھارت، روس اور برطانیہ نے خرچ کئے‘ یہ وہ ممالک ہیں جو اس عالمگیر وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکا نے ان تمام ممالک کی نسبت زیادہ دفاعی اخراجات کئے ہیں اور دنیا کی واحد سپرپاور کے اس مد میں کئے گئے اخراجات دنیا کے عالمی اخراجات کا تقریباً 40 فی صد ہیں۔ چین کے دفاعی اخراجات میں بھی 26ویں برس مسلسل اضافہ ہوا۔ ان اعداد و شمار کے مطابق، 2020 میں دنیا بھر میں دفاع کے نام پر فوجی بجٹ اور ہتھیاروں پر مجموعی طور پر 1981 ارب ڈالر خرچ کئے گئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ چین کے علاوہ ان تمام ملکوں میں غلط پالیسیوں کے باعث کورونا کی وبا نے شدید تباہی مچائی ہے جس سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ دنیا کے تمام طاقت ور ملکوں کو مستقبل میں ایسی وبائوں سے نمٹنے کے لئے مربوط پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے پریشان کن حالات پیدا نہ ہوں۔
0 Comments